Shahid Hussain 59

ہر دور اورعلاقے کے انسانوں میں کوئی نہ کوئی اجتماعی برائی پائی جاتی ہے – تحریر شاہد حسین(غلمت نگر)

ہر دور اورعلاقے کے انسانوں میں کوئی نہ کوئی اجتماعی برائی پائی جاتی ہے

۔ گلگت بلتستان کے لوگوں میں بہت سارے اچھائیوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی برائی غیر محسوس طریقے سے ہم سب میں نہ صرف سرایت کر چکی ہے بلکہ ہمارے اجتماعی نفسیات کاحصہ بن چکی ہے۔ ہم ہر سمت سے ایک دوسرے کو

برا، غلط، ذلیل، کمینہ،کمزور،نیچ، کہنے سے نہیں کتراتے، ہم مذہب کے نام پہ، خاندان کے نام پہ، علاقائیت کے نام پہ، برادری کے نام پہ، پروفیشنل جیلسی تو کوٹ کوٹ کے بھری ہے،

مثلا

گلگت بلتستان بھر میں عوامی۔سطح پہ ایک دوسرے کو کن القابات سے نوازتے ہیں

” یا لا فت تھے رو بگورو، رو کھجون، رو پلویو، پورییو،استریجو،لالی،دریلو، بروقپہ،گلیتو” وغیرہ پھر رو ڈوم، روکمین، رو شین، رو یشکونو، کشیرو وغیرہ

ہماری عام گفتگومیں ایک دوسرے کو چھوڑو یار وہ؟؟ وہ کمینہ، وہ ذلیل، تھرڈ کلاس آدمی،فضول، بلابلابلا سمجھ گئے ہونگے آگے((ہاہاہاہا))

خاندان یا معاشرے میں بڑا چھوٹے کو “بال” چھوٹا بڑے کو “مپیر جرو”((بڑھا)) سرکاری ملازم دوسرے کو فضول بیروزگار آدمی، بیروگار اسکو سفارشی بھرتی ہوا ہے کک بھی نہیں آتا۔

ڈرائیور’ نائی، موچی، مزدور،دہاڑی والا، ریڑھا والا دو ٹکے کا آدمی، بلا بلا بلا
سماجی ادارے ہوں، معاشی، سرکاری یا کہ کاروباری، آپس میں ایک دوڈ سی لگی ہے نقصان پہنچانے کی، ناکام کروانے کی، ذلیل کرنے کی، سرکاری دفاتر میں جتنے گلگت بلتستان کے ملازمین اپنوں کو ذلیل کرتے ہیں شائد کوئی پرایا کرے، جس کو بھی تھوڑی اختیار ملتی ہے سائل کو ذلیل کرنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتا ہے۔ اکثریت نہیں تو غالب اکثریت یہی کرتی ہے، یقین نہیں آتا ہے تو ایسے کسی آفس میں جائیں جہاں آپکا کوئی جاننے والا نہ ہو، تیری درگت نہ بنی تو کہنا۔

ہسپتال کا چپراسی، ہو یا کسی دفتر کا جتنا بھی اس کو موقع ملے گا، سائل کی بے عزتی کر کے ہی اسے تشقی ہو گی۔
الغرض ہم ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، ایک دوسرے کی بے عزتی کرنے،ایک دوسرے کو کم تر ثابت کرنے، ایک دوسرے کو کمینہ اور ذلیل کہنے اور ایک دوسرے کو برا اور غلط کہنے پہ،

پھر نتیجا کیا ہوتا ہے؟؟؟؟؟

ہم سب ہی کمینے، ہم سب ہی ذلیل، ہم سب ہی بے عزت، ہم سب ہی نیچ خاندان کے، ہم سب ہی کمزور، ہم سب ہی فضول لوگ، ہم سب ہی برے اور ہم سب ہی “غلط” ہیں۔

Shahid Hussain

تحریر شاہد حسین(غلمت نگر)

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply