gilgit baltistan constitutional reforms 87

گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کاروئی

گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کاروئی

گلگت بلتستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق اور علاقے کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کیلئے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت کو گلگت بلتستان پر تیار کردہ ڈرافٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ

گلگت بلتستان کے لوگوں کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں گے، گلگت بلتستان کے فنڈز بحال کیے جائیں گے، گلگت بلتستان حیثیت کے تعین کیلئے قانون سازی میں وقت لگے گا، گلگت بلستان کو پارلیمنٹ میں تین نشستیں دی جائیں گی ۔





وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ

آئین میں گلگت بلستان کا نام موجود ہے، گلگت بلتستان کے رہائشی کو فرسٹ کلاس شہری نہیں سمجھا جاتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملہ کے بین الاقوامی اثرات بھی ہوں گے، گلگت بلتستان کے لوگوں کے وہی حقوق ہیں جو پاکستانی شہریوں کے ہیں، وہاں کے لوگوں کو سیکنڈ کلاس شہری نہ کہیں، یہ بڑا حساس ایشو ہے ۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ

الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کریں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو سیکنڈ کلاس شہری کہنے کے الفاظ واپس لیں ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پاکستان کو شرمندہ نہ کریں ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حثیت کا تعین پارلیمنٹ نے کرنا ہے ۔،

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ

عدالت کا فیصلہ موحود ہے جس کے تحت گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے شہری ہیں،گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن پاکستانی ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں عدالت کیا حکم دے؟۔ وکیل نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو پاکستانی شہری تسلیم کیا ہے تو پھر قانون سازی میں کردار دیا جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت بھی یہی کہہ رہی ہے ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ نے کرنی ہے ۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ

گلگت بلتستان کے لوگوں کو قانون سازی میں حق ملنا چاہئے، آرڈر 2009 اور 2018 کو قانون سازی میں رسائی نہیں ۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ چاہتے ہیں گلگت بلتستان کے لوگوں کو قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں نشستیں ملیں، یہ حق آئینی ترمیم کے بغیر کیسے مل سکتا ہے، کیا ہم مقننہ کو قانون سازی کا کہہ سکتے ہیں، حکومت تو قانون سازی کرنے کیلئے تیار ہے ۔



وکیل سلمان اکرم نے بتایا کہ

گلگت بلتستان کو پاکستان کا حصہ بنایا جا سکتا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا عدالتی حکم پر کسی حصہ یا علاقے کا الحاق ہو سکتا ہے ۔ عدالتی معاون اعتزاز احسن نے کہا کہ گلگت بلستان کے لوگوں کو حقوق اور تخفظ میسر ہیں، اس بات سے انکار نہیں گلگت بلستان کے لوگ پاکستان کے لوگ ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ

بطور ریاست زیادہ سے زیادہ حقوق گلگت بلستان کو ملنے چاہیں، انڈیا نے گلگت بلستان کو اپنے علاقے میں شامل کر کے غلط کیا، عالمی اور ڈومیسٹک ایشوز کو چھوئے بغیر گلگت بلستان کے لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت کو یہ نہ بتایا جائے کہ زمینی حقائق تبدیل ہو گئے ہیں، گلگت بلستان کے لوگوں کے حقوق کا تخفظ کریں گے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ عالمی فورم پر گلگت بلستان کے حوالے سے پاکستان کا موقف کیا ہے ۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ

گلگت بلستان کی حیثیت کی تبدیلی کا عدالت سے نہ کہا جائے، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعین عدالت نے نہیں کرنا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ صدارتی آڈر کے برعکس حکومت کی مجوزہ قانون سازی پر اعتراض کیا ہے ۔

گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کاروئی




اٹارنی جنرل نے بتایا کہ

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نشستیں آئینی ترمیم اور قانون سازی کے بغیر مختص نہیں ہو سکتیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی ترمیم کے بغیر نشستیں مختص نہیں ہو سکتی، یہ یقینی بنایا جائے گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ میسر ہو، عدالت کا فوکس بنیادی حقوق اور آزاد عدلیہ کی فراہمی پر ہے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ

گلگت بلتستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا چاہئے، گلگت بلتستان پاکستان میں بجلی کی کمی پوری کر سکتا ہے، پاکستان میں پانی گلگت بلتستان سے آتا ہے، حکومت گلگت بلتستان کے فنڈز بحال کرنا چاہتی ہے، گلگت بلتستان کے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملنے چاہئیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ

کیس میں غیر ذمہ دارانہ دلائل یا بات سے ریاست کے مفاد کو نقصان ہوگا، کیا حکومت دو دنوں میں تیار کیا گیا ڈرافٹ پیش کر سکتی ہے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابھی تو ڈرافٹ میں بہت سی تبدیلیاں ہوں گی، عدالت ایک ہفتے کی مہلت دے تو ڈرافٹ پیش کرنے پر اعتراض نہیں+

۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی مشترکہ ڈرافٹ بن کر آ جائے تو اس کو عدالتی حکم نامے کا حصہ بنا دیں گے ۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ

جمعہ کو ڈرافٹ لے آئیں، اگر کوئی تبدیلی ہوئی تو بعد میں بھی کر سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ہم ہدایات نہیں دے سکتے، پارلیمنٹ کو صرف زیر غور لانے کا کہہ سکتے ہیں، انشااللہ گلگت کے لوگوں کو یہ حق ضرور ملے گا ۔

عدالت نے حکومت کو گلگت بلتستان پر تیار کردہ ڈرافٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply