Supreme-court-of-Pakistan-640x320 87

گلگت بلتستان کے حقوق کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ۔

گلگت بلتستان کے حقوق کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا ۔

اسلام آباد: گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے الجہاد ٹرسٹ کیس میں حکومت پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی آزادی دینے کا پابند کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائے جب کہ بھارت اور پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت مقننہ اور انتظامی ادارے قائم کیے گئے ہیں جب کہ استصواب رائے تک پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کا پابند ہے تاہم گلگت بلتستان کی عدالتیں گلگت بلتستان کونسل کی قانون سازی پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں جب کہ گلگت بلتستان کی عوام سپریم ایپلیٹ کورٹ کے فیصلوں کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے صدارتی آرڈیننس میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی سفارش پر صدر پاکستان مجوزہ عدالتی حکم کو نافذ کریں تاہم اس آرڈر میں کوئی ترمیم نہیں کی جا سکتی ہے، ترمیم صرف آئین کے آرٹیکل 124 میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی ہو سکتی ہے۔



فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ پاکستان کے اختیارات گلگت بلتستان میں بھی نافذ العمل ہیں اور ان اختیارات کو محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر پارلیمنٹ اس حکم میں تبدیلی یا ترمیم کرے تو سپریم کورٹ آئین کے تحت اسکا جائزہ لے سکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے فیصلہ جاری کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے شہریوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ ہے۔
گلگت بلتستان والےسپریم ایپلیٹ کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ پاکستان میں چیلنج کرسکتے ہیں،فیصلہ
گلگت بلتستان کی عدالتوں کو پاکستان میں آئینی اختیارات حاصل نہیں،فیصلہ
گلگت بلتستان کی عدالتیں گلگت بلتستان کونسل کی قانون سازی پر نظرثانی کر سکتی ہیں، فیصلہ
گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے تحت مقننہ اور انتظامی ادارے قائم کیے گئے، فیصلہ
الجہاد ٹرسٹ کیس میں حکومت پاکستان کوپابند کیاگیاکہ گلگت بلتستان کےعوام کوبنیادی آزادی دے،فیصلہ
بھارت اور پاکستان اپنے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں، فیصلہ
استصواب رائےتک پاکستان گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کا پابند ہے، فیصلہ
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، فیصلہ
ان علاقوں کی آئینی حیثیت استصواب رائے سے طے کی جائے،فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی آرڈیننس میں ترامیم تجویز کی ہیں، فیصلہ
ترمیم صرف آئین کے آرٹیکل 124 میں درج طریقہ کار کے مطابق ہی ہو سکتی ہے، فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان کے اختیار گلگت بلتستان میں بھی نافذ العمل ہیں،فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان کےگلگت بلتستان سےمتعلق اختیارات محدود نہیں کیےجاسکتے،فیصلہ
پارلیمنٹ اس حکم میں تبدیلی یا ترمیم کرےتوسپریم کورٹ اس کا جائزہ لے سکتی ہے، فیصلہ
نہ ہی گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق فیصلے کو ترمیم کے بغیر ختم کیا جائے، فیصلہ
حکم آئین کےآرٹیکل 124 کے تحت نافذ کیا جائے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ
عدالتی حکم میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے ،سپریم کورٹ کا فیصلہ
اگر اس کو چیلنج کیا جائے تو آئین کی بنیادی روح کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، فیصلہ
تجویز کردہ حکم اور فیصلہ وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر پاکستان 14 روزمیں نافذ کریں، فیصلہ
یہی معاملہ184 -3 کے تحت عدالت میں آیا،سپریم کورٹ کا فیصلہ
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق نہ ہی آئین کی کوئی شق ختم یا تبدیل ہو سکتی ہے، فیصلہ
گلگت بلتستان میں آرٹیکل 124 کے برعکس کوئی حکم نافذ نہیں ہو سکتا، فیصلہ
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق ججمنٹ کی پریس سمری جاری کی ہے،عدالت
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق ہم نےغیر معمولی کام کیا ہے ،عدالت



گلگت بلتستان کے شہریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،یہ تاریخی فیصلہ ہے،چیف جسٹس

گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستان کے عوام کے برابر حقوق دیے گئے ہیں،اٹارنی جنرل انور منصور

گلگت بلتستان بار کے نمایندوں نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا

Spread the love
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply