student of gilgit baltistan killed 127

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تعلیم کے مسافروں کا سفر اب موت کا سفر بن چکا ہے

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تعلیم کے مسافروں کا سفر اب موت کا سفر بن چکا ہے۔ کبھی لاہور کے کھیل کے میدانوں میں مار دیا جاتا ہے تو کبھی راولپنڈی کے گلیوں میں چھریوں سے وار کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اعجاز حسین جس کا تعلق ضلع استور کے کمھے سے تھا ، بڑے خواب دیکھ کر اعلی تعلیم کے لیے شہر اقتدار میں آیا لیکن اسکو کیا خبر اس کی لاش کفن پر لپیٹ کے واپس جائے گی۔

اعجآز تم بھی اسی راہ کے راہی ہو،

تمہیں کس نے کہا تھا کہ اعلی تعلیم کے خواب کی تعبیر کے لیے ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے شہر اقتدار جا کر پردیس میں تعلیم حاصل کریں؟

اس سے پہلے لاہور میں دلاور، کراچی یونی ورسٹی کے ابھرتے ستارے، لاہور کی جامعات کے سینئر طلبہ اور بلوچستان یونی ورسٹی کے استاذ پروفیسر دانش جیسے تعلیم کے مسافروں کو نہیں چھوڑا گیا۔ تشدد، دہشت و وحشت اور قتل و غارت کی تاریک راہوں میں تم بھی جا بسے۔

تمہیں جانا ہی تھا مگر اپنے خواب پورے کر کے مگر ۔۔۔۔۔

تم سے وابستہ ہزاروں امیدوں کے سہارے جینے والے باپ کو عمر میں یوں بے آسرا چھوڑ کرمتشددیں کے ہاتھوں تم چلے گئے۔

دنیا ہمیں طعنہ دیتی ہے کہ تم پڑھے تو بھی مار دیے جاوگے، بڑھو تو بھی مار دیے جاوو گے۔ کبھی سفر میں تو کبھی شہر میں، کبھی سکول میں تو کبھی بسوں میں۔
کاش ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگ اپنی دھرتی میں یونیورسٹیسیز کے قیام کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے آخر کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے

Spread the love
  • 55
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    55
    Shares
  • 55
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply