keevis matches 36

کیویز(نیوزی لینڈ) بمقابلہ پاکستان – سمیع چوہدری کا تجزیہ

متحدہ عرب امارت (یو اے ای) سے پاکستانی کرکٹ کا بہت دیرینہ رشتہ ہے۔ شارجہ کرکٹ سٹیڈیم سے پاکستان کی بہت سی سنہری یادیں وابستہ ہیں اور 2010 کے بعد جب سے یہ گراؤنڈز پاکستان کے ‘لے پالک’ ہوم گراؤنڈز بنے ہیں، یہ رشتہ اور گہرا ہو گیا ہے۔

آج کل پاکستان اور انڈیا میدان میں تو کم کم ہی سامنے آتے ہیں، اس لیے ٹی وی ٹاکرے بہت عام ہونے لگے ہیں۔ ایسے ہی کسی ٹاکرے میں سابق انڈین کپتان ساروو گنگولی نے طعنہ زنی کی کہ ورلڈ کپ میں آج تک پاکستان بھارت سے جیت نہیں پایا۔ اس پہ وسیم اکرم جھٹ سے بولے، بھارت بھی تو شارجہ میں کبھی ہم سے جیت نہیں پایا۔




پاکستان کو ان وکٹوں پہ کچھ ایسا اعتماد ہے کہ مصباح کے قیادت سنبھالنے کے بعد ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ مسلسل فتوحات کا ایسا تانتا کبھی پاکستان کے ہوم گراونڈز پہ بھی نہیں بندھا تھا جو یو اے ای میں لگنے لگا۔ تبھی پاکستان ٹیسٹ ٹیم یہاں ناقابلِ تسخیر ٹھہری اور یو اے ای پاکستان کا ‘فورٹریس’ کہلانے لگا۔

لیکن مصباح کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ خطاب ذرا چھنتا سا دکھائی دینے لگا کیونکہ اول تو پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ ویسے ہی بہت کم کھیلی۔ پھر جو تھوڑی بہت ہوم کرکٹ کھیلی بھی، اس میں یو اے ای میں اب تک صرف چھ میچ کھیلے ہیں۔

گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف دو میچز کی سیریز میں پاکستان کو کلین سویپ کی خفت اٹھانا پڑی۔ اس کے بعد رواں سیزن کے آغاز پہ دبئی میں آسٹریلیا سے ٹیسٹ ڈرا ہو گیا جو کہ میزبان ٹیم کے لیے ندامت سے کم نہیں تھا۔
ابوظہبی میں پاکستان کو چار رنز سے شکست ہوئی
ابوظہبی میں پاکستان آسٹریلیا پہ فاتح ٹھہرا مگر کچھ ہی دن بعد اسی گراونڈ پر نیوزی لینڈ کے خلاف واضح دکھائی دیتی فتح اس کی مٹھی سے پھسل گئی اور چار رنز سے شکست کی ایسی ہزیمت اٹھانا پڑی کہ جب دبئی میں چار سو رنز بورڈ پہ سجے تو سرفراز نے زیادہ سوچے بغیر فورا ہی اننگز ڈکلئیر کر کے حساب چکانے کی ٹھانی۔



مصباح اور یونس کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس ٹیم پہ شبہات تو اٹھ ہی رہے تھے مگر گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف کلین سویپ ہونے اور دبئی میں آسٹریلیا کے خلاف ڈرا کے بعد یہ گمان ہونے لگا تھا کہ اب اس بیٹنگ لائن کو کسی تجربہ کار سہارے کی ضرورت ہے اور اس بولنگ لائن کو کسی زرخیز دماغ کی۔

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply