پاکستان کی امن پسندی اور بھارتی آرمی چیف کا بیان 45

پاکستان کی امن پسندی اور بھارتی آرمی چیف کا بیان

پاکستان کی امن پسندی اور بھارتی آرمی چیف کا بیان

بھارت میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں، جو خطے میں امن اور ہمسایوں سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے، جو پاکستان کیساتھ بھارت کے تعلقات نہیں دیکھنا چاہتے۔ بھارت میں امن دوست لابی کو پہلے ان “شرپسندوں” کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ انکا محاسبہ ہوگیا اور انکو لگام ڈال لی گئی تو خطے میں امن بھی ہوجائیگا اور مسائل بھی حل ہو جائینگے۔
بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پاکستان کو ایک انوکھا مشورہ دیا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ اگر پاکستان بھارت کیساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو اُسے پہلے سیکولر ہونا پڑے گا۔ بھارتی آرمی چیف کہتے ہیں بھارت چونکہ ایک سیکولر ریاست ہے اور اُس سے ملنے کیلئے پاکستان کو بھی سیکولر بننا پڑے گا۔ آرمی چیف شائد اپنے ہی ملک کی تاریخ سے لاعلم ہیں۔ موصوف کو علم ہونا چاہیئے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی معرض وجود میں آیا تھا۔ بھارتی آرمی چیف کی خواہش ہے کہ پاکستان اپنی بنیاد سے ہٹ جائے تو تعلق مضبوط ہوسکتا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کیساتھ اچھے تعلقات کی بات کی ہے، انڈیا میں ضم ہونے کی بات نہیں کی۔ بپن راوت کی گفتگو سے لگتا ہے کہ وہ کہہ رہے کہ پاکستان کو ساتھ تب ملائیں گے جب وہ سیکولر ہو جائے گا۔ بھارتی آرمی چیف کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ پاکستان بھارت کی نسبت ہزار ہا درجے بہتر ملک ہے۔ اس سیکولرازم کو کیا کریں، جہاں کشمیر میں نہتے عوام پر حملے روز کا معمول ہوں، بھارتی فوج قتل و غاری گری میں مصروف رہتی ہے، کشمیر ہی نہیں بھارت کے متعدد علاقوں اور ریاستوں میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہیں
ھارتی آرمی چیف بپن راوت نے پاکستان کو ایک انوکھا مشورہ دیا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ اگر پاکستان بھارت کیساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو اُسے پہلے سیکولر ہونا پڑے گا۔ بھارتی آرمی چیف کہتے ہیں بھارت چونکہ ایک سیکولر ریاست ہے اور اُس سے ملنے کیلئے پاکستان کو بھی سیکولر بننا پڑے گا۔ آرمی چیف شائد اپنے ہی ملک کی تاریخ سے لاعلم ہیں۔ موصوف کو علم ہونا چاہیئے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہی معرض وجود میں آیا تھا۔ بھارتی آرمی چیف کی خواہش ہے کہ پاکستان اپنی بنیاد سے ہٹ جائے تو تعلق مضبوط ہوسکتا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کیساتھ اچھے تعلقات کی بات کی ہے، انڈیا میں ضم ہونے کی بات نہیں کی۔ بپن راوت کی گفتگو سے لگتا ہے کہ وہ کہہ رہے کہ پاکستان کو ساتھ تب ملائیں گے جب وہ سیکولر ہو جائے گا۔ بھارتی آرمی چیف کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے کہ پاکستان بھارت کی نسبت ہزار ہا درجے بہتر ملک ہے۔ اس سیکولرازم کو کیا کریں، جہاں کشمیر میں نہتے عوام پر حملے روز کا معمول ہوں، بھارتی فوج قتل و غاری گری میں مصروف رہتی ہے، کشمیر ہی نہیں بھارت کے متعدد علاقوں اور ریاستوں میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہیں۔




ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں اس وقت علیحدگی کی 67 سے زائد تحریکیں چل رہی ہیں، بھارت اگر سیکولر ہوتا تو آزادی کی یہ تحریکیں نہ چل رہی ہوتیں۔ بھارت میں ہر طرف شانتی ہوتی، راوی چین ہی چین لکھ رہا ہوتا مگر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ بھارت میں اس وقت 67 علیحدگی کی تحریکیں سرگرم عمل ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی تحریکیں ہیں اور ان تحریکوں نے دہشتگردی کے اپنے تربیتی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ صرف آسام میں 34 علیحدگی پسند تنظیمیں ہیں۔ 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے، جبکہ نکسل باڑی تحریک نے خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ اس وقت بھارت میں ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام میں یہ تحریکیں عروج پر ہیں، جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک نے دوبارہ سر اُٹھانا شروع کر دیا ہے، کیونکہ سکھ گولڈن ٹیمپل میں ہونیوالی خون ریزی کو فراموش نہیں کرسکتے، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے۔ چین، لداخ اور ارونا چل پردیش پر نظریں گاڑے بیٹھا ہے اور نہ صرف کشمیر بلکہ اروناچل پردیش کے شہریوں کو چین کے ویزا سے مستثنیٰ قرار دے چکا ہے۔

پاکستان کی امن پسندی اور بھارتی آرمی چیف کا بیان

بھارت مسلسل الزام لگا رہا ہے کہ چین اروناچل پردیش اور لداخ میں مداخلت کرکے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر حصوں بہار، آندھرا پردیش، مغربی بنگال پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کا وہ سیکولر ازم کہاں گیا، جو مبینہ طور پر جیو اور جینے دو کا سبق دیتا ہے؟ اصل میں بھارت سکیولرازم کا ماسک لگا کر دنیا کو دھوکہ دے سکتا ہے، پاکستان کو نہیں، کیونکہ پاکستان بھارت سے ہی الگ ہوا تھا، بھارت کی حقیقت پاکستان سے بہتر کون جانتا ہے۔ بھارت ایک ہندو بنیاد پرست ریاست ہے۔ جس میں ہندو ازم کے علاوہ کوئی ازم قابل قبول نہیں، مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے، گائے ذبح کرنے پر انسانوں کو ذبح کر دیا جاتا ہے، عیسائیوں، سکھوں، مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگ بھارت کے نام نہاد “سیکولرازم” سے نالاں ہیں۔




چیئرمین ورلڈ مسلم سکھ فیڈریشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مظالم کی وجہ سے بھارت ٹوٹنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارتی حکمران ہر گزرتے دن کیساتھ جنگی جنون کو بڑھا رہے ہیں۔ میں ریاستی جبر کے شکار عوام کو انصاف نہیں مل سکا۔ بھارتی ریاست مختلف علاقوں میں موجود سیاسی تنازعات کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ بھارت میں مختلف انتہاء پسند تنظیمیں زور پکڑ رہی ہیں اور لوگ بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ مودی کے جاری مظالم کی وجہ سے بھارت ٹوٹنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سکھ اور کشمیری بھارت سے مکمل آزادی چاہتے ہیں۔ جب تک ہم خالصتان کو آزاد نہیں کروا لیتے، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ صرف خالصتان ہی سکھوں کیلئے واحد راستہ ہے۔ 2020ء میں ہونیوالا سکھ ریفرنڈم خالصتان کے حصول کو ممکن بنائے گا۔

ایسے میں بھارت اس پاکستان کو کیسے سیکولرازم کا سبق دے سکتا ہے، جو ریاست مدینہ کے راستے پر گامزن ہے۔ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں، انہیں اپنی عبادات میں مکمل آزادی ہے، اقلیتوں کی عبادتگاہیں محفوظ ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کو اگر یقین نہیں آتا تو پاکستان سے واپس لوٹنے والے نوجوت سنگھ سدھو سمیت دیگر سکھوں اور ہندو یاتریوں سے پوچھ لیں کہ یہاں اُن کو عوام نے کتنا پیار دیا ہے۔ پاکستان کے عوام انسان دوست ہے، مذہب سے بالا تر ہو کر انسانیت سے محبت کرتے ہیں۔ ہاں پاکستان میں دہشتگردی کے اگر کوئی اکا دُکا واقعات ہوتے بھی ہیں تو اس کے پیچھے بھارت سرکار کا ہی ہاتھ ہوتا ہے اور بھارتی میڈیا ہی اسے منظم انداز میں سب سے زیادہ پروپیگیٹ کرتا ہے، بالخصوص پاکستان میں دہشتگردی کے چھوٹے سے واقعہ کو بنیاد پر بنا پر بھارتی میڈیا کشمیر میں سب سے زیادہ پروپیگنڈہ کرتا ہے۔

کشمیری عوام کو یہ بتانے کی ناکام کوشش کرتا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک ہے، جہاں دہشتگردی عام ہے، اس پروپیگنڈے کا مقصد صرف انہیں ڈرانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کیساتھ شمولیت کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں، مگر بھارتی آرمی چیف یاد رکھیں کہ جھوٹ کے پاؤ نہیں ہوتے، ایسے ہی جیسے گذشتہ روز فیصل آباد کے 2 طلباء کی تصویر کو لیکر بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا کہ وہ بھارت میں داخل ہوچکے ہیں جبکہ وہ فیصل آباد میں اپنے مدرسے میں موجود تھے۔ بھارت نے ہمیشہ ایسی ہی بے پر کی اُڑائی ہے اور ہر بار اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب بھی پاکستان کی جانب سے کرتار پور کوریڈور کی تعمیر سے بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب ہوا ہے کہ پاکستان تو علاقے میں امن چاہتا ہے، مگر بھارت کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کر لیتا ہے۔

بھارت میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں، جو خطے میں امن اور ہمسایوں سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، مگر اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو پاکستان کیساتھ بھارت کے تعلقات نہیں دیکھنا چاہتے۔ بھارت میں امن دوست لابی کو پہلے ان “شرپسندوں” کا محاسبہ کرنا ہوگا۔ ان کا محاسبہ ہوگیا اور ان کو لگام ڈال لی گئی تو خطے میں امن بھی ہو جائے گا اور مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر سیاحت اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے خیالات مثبت ہیں۔ وہ نہ صرف علاقے میں امن چاہتے ہیں بلکہ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت اچھے ہمسایوں کی طرح رہیں۔ وہ بھارت تجارت کو پاکستان اور افغانستان کے راستے سوویت یونین کی ریاستوں تک اور وہاں سے دیگر دنیا تک پھیلانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، مگر سدھو جی کا یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک بھارتی پارلیمنٹ میں شدت پسند ارکان موجود ہیں۔ بھارت کو اپنے اداروں اور پارلیمنٹ سے شدت پسندوں کو نکالنا ہوگا، جس دن یہ شدت پسند باہر ہوگئے، بھارت ایک سیکولر ریاست بن جائے گا۔ اس سے پہلے بھارت کا کسی اور کو سیکولر بننے کا مشورہ دینا فضول ہے۔
تحریر: تصور حسین شہزاد

Courtesy: Islam Times

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply