وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا پوری اسلامی ممالک کی طرف سے شکریہ 53

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا پوری اسلامی ممالک کی طرف سے شکریہ

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کا پوری اسلامی ممالک کی طرف سے شکریہ




ہم سے ہزاروں کوس دور نیوزی لینڈ ایک ایسا خطہ ہے جو ہماری دسترس سے کہیں دور رہا۔ تاریخ میں آج تک کسی بھی مسلم حکمران یا داعی نے اس طرف نہیں دیکھا، نہ ہی کبھی کوئی باقاعدہ دعوتی مشن اس طرف روانہ کیا گیا۔ 1850 میں جب برصغیر میں اسلامی حکومت پر زوال آیا، تب ایک ہندوستانی گجراتی مسلم خاندان، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں آن بسا۔ اس کے بعد کچھ دیگر ممالک کے مسلمان بھی اس طرف وقتاً فوقتاً رخ کرتے رہے۔ نیوزی لینڈ میں 1950 تک مسلمان بہت ہی معمولی تعداد میں رہے جن کی نہ تو کوئی شناخت تھی اور نہ عبادت گاہ۔ 1951 میں یوگوسلاویہ سے نقل مکانی کرکے انے والے ’’مظہر سکری‘‘ نے پہلی بار نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں بکھرے ہوئے مسلمانوں سے رابطہ کرکے انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جن میں زیادہ تر پاکستانی، لبنانی اور بھارتی مسلمان شامل تھے۔

Read This Article: Bilawal and Zardari


نیوزی لینڈ کے ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنوں سے جمعے کی اذان بطورِ خاص نشر کی جاتی ہے تاکہ وہاں معمولی تعداد میں موجود مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا جائے۔

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سے

وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے غم کو اپنا غم قرار دیتی ہیں۔ حتی کہ سر پر دوپٹہ اوڑھے اسلامی لباس میں مسجد النور میں تعزیت کےلیے جاتی ہیں اور روتی بیواؤں اور یتیم بچوں کو اپنے گلے سے لگاتی ہیں۔




Spread the love
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    2
    Shares
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply