194929_1628277_updates ali raza abidi 47

علی رضا عابدی کے قتل کا مقدمہ اب تک درج نہ ہوسکا، گارڈ زیرِ حراست

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کے قتل کا مقدمہ اب تک درج نہیں کیا جاسکا، دوسری جانب پولیس نے علی رضا عابدی کے گارڈ کو حراست میں لیتے ہوئے گھر کے چوکیدار کا بیان بھی ریکارڈ کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما اور قومی اسمبلی کے سابق رکن علی رضا عابدی کو نامعلوم ملزمان نے گزشتہ روز ڈیفنس فیز 5 کے علاقے خیابان غازی میں ان کے گھر کے باہر نشانہ بنایا تھا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ پیر محمد شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ علی رضا عابدی کے قتل کی تحقیقات ابتدائی مراحل میں ہیں اور اس سلسلے میں ہر زاویے کو مدنظر رکھا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ علی رضا عابدی کے گارڈ قدیر کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جو فائرنگ کے جواب میں فوری کارروائی کے بجائے گھر کے اندر چلا گیا اور علی رضا عابدی کے والد سے ملزمان پر جوابی فائرنگ کے لیے ہتھیار مانگا۔




انہوں نے بتایا کہ گارڈ کے دروازہ کھولنے کے بعد فائرنگ ہوئی۔

ali raza abidi firing
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ملزم کو علی رضا عابدی کی گاڑی پر فائرنگ کرتے دیکھا جاسکتا ہے—۔اسکرین گریب

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کے مطابق گارڈ قدیر کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا اور اسے علی رضا عابدی کے گھر پر تعینات ہوئے ڈیڑھ سے دو ماہ ہوئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں میں دو تین مقامات پر ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ اس حوالے سے فارنزک تحقیقات جاری ہیں کہ واقعے میں استعمال ہونے والا ہتھیار پہلے کبھی کسی واقعے میں استعمال ہوا یا نہیں۔

Spread the love
  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share
  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply