Message for CSS Aspirants 41

سی ایس ایس کی بنیاد پر کسی کی قابلیت کو جج کرنا

سی ایس ایس کی بنیاد پر کسی کی قابلیت کو جج کرنا

آپ سب لوگوں کو معلوم ہے کہ آج کل پورے پاکستان میں سی ایس ایس کرنے کا ٹرینڈ چل رہا ہے مختلف شعبوں کے طالب علم اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد سی ایس ایس کے امتحان کی تیاریوں میں مگن ہیں. آج سے بیس تیس سال پہلے لوگوں کو سی ایس ایس کے بارے میں اتنا آئڈیا نہیں تھا جس کی وجہ سے لوگ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے شعبوں کے مطابق نوکری ڈھونڈ لیتے تھے لیکن مزے کی بات تو یہ ہے کہ آج کے دور میں ہر طالب علم کے سر پر سی ایس ایس کا بوت سوار ہوا ہے جوکہ ایک قابلِ دید عمل ہے کیونکہ ہمارے ملک میں اس سے پہلے لوگ روایتی فیلڈز میں جانے کو ترجیح دیتے تھے جیسے کہ میڈیکل اور انجینئرنگ.
کوئی بھی طالب علم اس فیلڈ میں قدم رکھتا ہے تو اسے بہت محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ سی ایس ایس کوئی رٹ لگا کر پاس کرنے والے امتحان نہیں یہاں پر بندے کو(critical thinking ) کرنی ہو تی ہے جس کی بنا پر لوگ کامیابی کی راہ پہ گامزن ہو سکتے ہیں..
بہت سارے لوگ اس فیلڈ میں آکے دنیا کے سارے غموں کو بھول کر سی ایس ایس کی تیاری میں لگے رہتے ہیں کیونکہ یہ ان لوگوں کی زندگی کا اہم مقصد بن چکا ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے وہ تک و دو کر رہے ہیں سی ایس ایس کا یہ سفر کوئی آسان مرحلہ نہیں اس میں بندے کو لائبریری میں جا کر دن رات پڑھنا پڑتا ہے بہت سارے طالب علم تقریباً ایک سال تیاری کے بعد جاکے سی ایس ایس کے امتحان میں آپئیر ہو جاتے ہیں. بہت کم ہی طالب علم ایسے ہوتے جو پہلی آٹیمپٹ میں اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو تینوں آٹیمپٹ دینے کے باوجود پاس نہیں کر سکتے ہیں.
اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ جو طالب علم سی ایس ایس کے امتحان پاس کر گئے وہ بہت مہارت رکھنے والے تھے اور جو لوگ اس کمپیٹیشن میں فیل ہو گئے وہ کچھ زیادہ ہی نالائق تھے یہ ہمارے لوگوں کی احمقانہ سوچ ہے کہ جو فیل ہوتا ہے اُس کو دنیا کا نالائق ترین انسان سمجھا جاتا ہے.
ہمارے سامنے بہت ساری ایسی مثالیں بھی ہیں کہ کئی دوست مل کے سی ایس ایس کی تیاری کر رہے تھے ان میں ایک ایسا طالب علم تھا جو باقی دوستوں کو پڑھاتا تھا بعد میں جود اس بندے کی کوالیفیکیشن نہیں ہوئی لیکن اس کے دوست جن کو وہ گائیڈ کرتا تھا ان کی کوالیفیکیشن ہو گئ…
ہمارے لوگوں کے درمیان وہی ہیرو بن جاتا ہے جو کوالیفائی کر کے کسی بڑے عہدے میں جاتا ہے اور لوگوں کا رویہ اس کے عہدے کو دیکھ کر تبدیل ہوتا ہے. اس وقت غیر بھی اس کے اپنے بن جاتے ہیں اور دوسری طرف جو لوگ بدقسمتی سے کوالیفائی نہیں کر سکے ان سے تو لوگ سلام لینا بھی گوارا نہیں کرتے.ان کے اپنے بھی ان سے منہ پھیر لیتے ہیں..
خدارا اپنی سوچ کو بدلو اور صرف اور صرف رزلٹ کی بنیاد پر ان لوگوں کی محنت کو نظرانداز مت کرو.. بلکہ ان کے کاوشوں کو سراہنے کی کوشش کر و.. اس سے آنے والی نسلوں کو ہمت اور حوصلہ ملے گا.

از قلم : حسین عباس

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply