اکیڈمی کلچر اور دم توڑتی کتابیں 84

اکیڈمی کلچر اور دم توڑتی کتابیں

اکیڈمی کلچر اور دم توڑتی کتابیں

گذشتہ زمانوں میں رنگ گورا کرنے لکی ایرانی سرکس، اسٹیج ڈراموں اور شعبدہ بازوں کے اشتہارات در و دیوار کی زینت ہوتے تھے، زمانہ بدلتا گیا انداز و اطوار میں تبدیلی آتے گئی، کچھ ایسا ہی حال ہمارے نظام تعلیم کے ساتھ بھی ہوا۔پہلے محلے کی پڑھی لکھی لڑکی یا لڑکا چھوٹے بچوں کو اسکول کا کام کرادیتے ، ریاضی ، انگریزی اور سائنسی مضامین کی تیاری بھی بچے محلے سے کرلیتے تھے۔ زمانہ بدلا نجی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو ایک اور عذاب والدین کے سر مسلط ہوگیا، دن بھر کی تھکان سے چور والدین کے پاس اپنی اولاد کیلئے وقت نہیں ہوتا چنانچہ نوکری، کاروبار اور دیگر معاملات میں الجھے والدین اپنی اولاد کو وقت دینے سے بھی قاصر ہیں۔ بچوں کی تعلیمی حالت کی بہتری کیلئے ہر وقت تگ و دو میں مصروف رہنے لگے۔ جس کے نتیجے میں محلے کی بڑی آپا کی جگہ ٹیوشن والی آگئی، ٹیوشن والی ٹیچر کا کام تھوڑا سا چل گیا تو گھر کی بیٹھک ہی میں اکیڈمی بنالی۔ سارا دن اسکول میں بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ گھروں اور اکیڈمیز کو وقت دینے لگ گئے، ایک استاد یا استانی سارا دن جس بچے کو اسکول میں پڑھاتا ہے، وہی شام کو کسی دوسری اکیڈمی میں بچے کو اضافی فیس لے کر پڑھا رہے ہوتے ہیں اب تو نجی تعلیمی اداروں نے شام کے اوقات میں اپنے ہی اسکول یا کالج میں اکیڈمیز کھول لی ہیں، جہاں بچوں کو زبردستی داخلہ لینے کا کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال ملک بھر میں ہے لیکن تعلیم کیساتھ اس کھلواڑ پر ہر کوئی خاموش ہے، گذشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان نے نجی تعلیمی اداروں کو اضافی فیسیں لینے سے روکا لیکن مؤثر قانون سازی نہ ہونے کے باعث اکیڈمیز اور مشروم اسکولز تاحال آزادانہ دکان چمکا رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں لاہور میں موجود غیر رجسٹرڈ اکیڈمیز کے بارے میں اعداد وشمار جاننے کا موقع ملا جو لاہوریوں کیلئے انتہائی تشویشناک ہیں، یہ اعداد و شمار لاہور کے مڈل کلاس طبقے کی رہائشی سو سائیٹیز کے ہیں، سرکاری رپورٹس کے مطابق لاہور میں غیر رجسٹرڈ اکیڈمیزکی تعداد 7000 سے تجاویز کرگئی پرائیوٹ اکیڈمی مالکان نے رجسٹرنگ اتھارٹی کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے ہیں، رجسٹرنگ اتھارٹی تاحال لاہور کی ایک بھی اکیڈمی کو رجسٹریشن نہ دے سکی۔ اس وقت لاہور کے علاقے ٹاون شپ میں 180 سو، جوہر ٹاون میں 120، مغلپورہ میں 90، ساندہ میں 75، گلشن راوی میں 122، سمن آباد میں 97، شادمان میں 40 غیررجسٹر اکیڈمیز موجود ہیں اسی طرح شاہدہ 151، دھرپورہ میں 101، شالیمار ٹاون میں 50، وسن پورہ 40، تاج پورہ میں 67 غیررجسٹرڈ اکیڈمز موجود ہیں غیر رجسٹرڈ اکیڈمز کا ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے، ڈسٹرکٹ رجسٹرکٹ اتھارٹی ریگولیرٹی اتھارٹی بنے کے بعد ہی اکیڈمزکیخلاف کریک ڈاون شروع کیا جاسکے گا۔

اب تعلیم کے نام پر دھندہ عر وج پر ہے

مگر محکمہ تعلیم کے اہلکار اور نہ ہی حکومتی عہدیدار اس مسئلے کی جانب توجہ دے رہیں، اکیڈمی مافیا نے بچوں میں رٹا کلچر کا شکار بنا دیا ہے جبکہ والدین کی جیبوں پر کند قینچی چلائی جارہی ہیں، گذشتہ دنوں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چند افسران سے بھی اس سنجید ہ معاملے پر گفتگو کی لیکن ان کی جانب سے بھی کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔ والدین اور سول سوسائٹی جہاں اس معاملے کو تعلیمی نظام کیلئے خطرناک قرار د ے رہی ہے ، وہیں اس مسئلے پر اپنا رد عمل دینے سے بھی کنی کترا رہے ہیں، اساتذہ اور طلبہ اس معاملے کو دبا دینا ہی چاہتے ہیں۔

میرے چند احباب بھی اکیڈمی بزنس سے وابستہ ہیں،

جنہوں نے چند ہزار روپے پر کچھ اساتذہ کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں

جبکہ وہ اس بزنس سے خاطر خواہ فائدہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔۔ مشروم اکیڈمیز جہاں تعلیم نظام کا کباڑا کررہی ہیں، وہیں طلبہ کی اخلاقیات تباہ کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہیں، رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے اکیڈمیز من مانیاں کر رہی ہیں۔ مرضی کی فیس، تعلیم کیلئے ناموافق ماحول اور دیگر سنجیدہ نوعیت کے مسائل بھی انہیں اکیڈمیز کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں جوکہ معاشرے کیلئے زہر قاتل ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ

ماہرین تعلیم کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ان اکیڈمیز کو شعبہ تعلیم کے دائرے میں لائے اور ان کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی فیس طے کرے۔ نیز نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے اکیڈمیز بنانے کے عمل کی حوصلہ شکنی کرے، اس سے جہاں نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہوگا، وہیں طلبہ میں احساس ذمہ داری بھی پیدا ہوگا۔کیوں کہ معاشروں کی تعمیر رٹا کلچر کی بجائے تحقیق علم کی تخلیق میں ہے، اب یہ ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ قوم اور اس قو م کے نوجوان کا مستقبل کس طرح بہتر بناتی ہے۔

Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply