اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش، فضل الرحمان کی 24 گھنٹوں میں زرداری سے دوسری ملاقات 55

اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش، فضل الرحمان کی 24 گھنٹوں میں زرداری سے دوسری ملاقات

اپوزیشن کو متحد کرنے کی کوشش، فضل الرحمان کی 24 گھنٹوں میں زرداری سے دوسری ملاقات

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے صدر آصف علی زرداری سے دوسری ملاقات کی ہے۔

مولانا فضل الرحمان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت کو قریب لانے کے مشن پر ہیں اور اسی مقصد کیلئے انہوں نے آصف زرداری سے چوبیس گھنٹے میں دوسری ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے خلاف کارروائیوں پر اظہار تشویش کیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان ملاقات کے دوران مؤقف اپنایا کہ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں کو تمام گلے شکوے ختم کردینے چاہئیں۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آصف علی زرداری اور مولانافضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف جاری کارروائیوں پراظہارتشویش کیا اور مستقبل میں اپوزیشن جماعتوں کی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی۔

مولانا فضل الرحمان کی آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان دوریاں ختم کرنے کی بھی کوشش جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام گلے شکوے ختم کر دینے چاہئیں اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو مل بیٹھ کرحکمت عملی طے کرنی چاہیے۔

حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پاک چین دوستی خطرے میں ہے، فضل الرحمان

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آصف زرداری سے ملاقات پہلےسے طے نہیں تھی، ملاقات کا کوئی ایجنڈا نہیں تھا، ہم نے اتفاق کیا کہ الیکشن میں تاریخ کی بدترین دھاندلی ہوئی، الیکشن کے بعد ہم نے کہا تھا کہ حلف نہ اٹھایا جائے لیکن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ہماری رائے سے اتفاق نہیں کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کے عدم اتفاق رائے سے سب متاثر ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے ملک کو کمزوری کی طرف لے جارہے ہیں، یہ حکومت عوام کی منتخب حکومت نہیں، جعلی مینڈیٹ رکھتی ہے، حکومت کی پالیسی کے نتیجےمیں ڈالر کہاں پہنچ گیا، اسٹاک ایکسچینج میں اُلو بول رہے ہیں، 24 ارب سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائر تھے، اب نصف سے کم رہ گئے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اقتصادی مضبوطی کسی بھی ملک کے استحکام کیلئے لازم ہے، ریاست مدینہ کے خدوخال اور تقاضوں سے حکومت واقف نہیں، حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے پاک چین دوستی خطرے میں ہے، 70سال پرانی دوستی میں دوری پیدا ہورہی ہے۔

امیر جے یو آئی نے کہا کہ چین کے ساتھ اقتصادی شراکت داری ہونے جارہی تھی، اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو امریکا کی خواہش پرسُست کیا جارہا ہے، موجودہ صورتحال پر ہمیں مطمئن کیوں نہیں کیا جارہا، قوم کا حق ہے کہ اسے بتایا جائے ملک کو کہاں لے جایا جا رہا ہے۔



فضل الرحمان نے کہا کہ بین الاقوامی ایجنڈا بہت متحرک ہے، مدارس سے متعلق مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اپوزیشن جماعتوں کے پاس گرینڈ اپوزیشن کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، اپوزیشن لیڈر کو پیغام بھیجا کہ اپوزیشن جماعتوں سے تجاویز لیں، تجاویز کی روشنی میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائیں گے۔

Spread the love
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply